حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین علی رضا پناہیان نے ٹی وی پروگرام ’’سمت خدا‘‘ میں قرآن کریم میں اجتماعی فکر اور عقل کی تربیت کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرآن صرف فرد کی تربیت نہیں کرتا بلکہ معاشرے کی فکر اور ثقافت کی تشکیل پر بھی خصوصی توجہ دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کی آیات کو سمجھتے وقت ان کا اصل مقصد سامنے رکھنا چاہیے۔ مثال کے طور پر سورۂ تین میں انجیر اور زیتون کا ذکر موجود ہے، لیکن اس آیت کا براہِ راست مقصد ان پھلوں کے طبی فوائد بیان کرنا نہیں ہے۔ اسی طرح ’’وَاسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ‘‘ میں بھی آیت کے اصل پیغام اور مقصد کو سمجھنا ضروری ہے، نہ کہ اس سے متعلق تمام موضوعات کو آیت کا مفہوم قرار دیا جائے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین پناہیان نے کہا کہ قرآن کریم میں انبیاء اور اہل ایمان کے خلاف دشمنوں کے ایک اہم حربے کے طور پر انہیں بے عقل، نادان یا مجنون قرار دینے کا ذکر ملتا ہے۔ دشمنانِ حق نے مختلف انبیاء کو بھی اسی طرح کے الزامات کا سامنا کرایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حق اور باطل کی کشمکش میں عقلانیت بھی ایک اہم میدان ہے۔
انہوں نے دینی تربیت کے حوالے سے کہا کہ بچوں کو صرف معلومات اور دینی علوم نہیں سکھانے چاہئیں بلکہ انہیں صبر، انتخاب، اپنے فیصلوں کے نتائج پر غور اور جذبات پر قابو پانے کی مشق بھی کرانی چاہیے۔ عقل کا مطلب یہ ہے کہ انسان فوری جذبات اور وقتی مفادات سے آگے بڑھ کر اپنے اعمال کے دور رس نتائج کو دیکھ سکے۔
انہوں نے والدین کے رویے کو بچوں کی تربیت میں اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر والدین معمولی ناراضگی پر چیخنے چلانے، شکایت یا بے قابو جذبات کا اظہار کریں تو بچے بھی عقلانیت کا عملی نمونہ نہیں سیکھ پائیں گے۔ البتہ جذبات بذاتِ خود منفی نہیں ہیں؛ اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنے جذبات کو کس سمت استعمال کرتا ہے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین پناہیان نے کہا کہ سید حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال معاشرے کے لیے ایک امتحان بھی ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق رہبر کی عدم موجودگی میں معاشرے کو اپنی عقل، تشخیص اور ذمہ داری کی صلاحیت کو مزید مضبوط کرنا چاہیے۔
انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ رہبر کی عارضی غیر موجودگی میں بھی معاشرے کو اپنی ذمہ داری سے غافل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ صحیح راستے کی تشخیص کے لیے اپنی عقل و بصیرت سے کام لینا چاہیے۔










آپ کا تبصرہ